اسلام میں عورت کا حقیقی مقام و مرتبہ
اسلام کی آمد سے قبل عورت کو اکثر ایک شے سمجھا جاتا تھا، لیکن اسلام نے آکر عورت کو وہ عزت اور مقام عطا کیا جس کی وہ حقدار تھی۔ یہ دین عورت کو معاشرے کا ایک قابلِ احترام اور فعال رکن मानता ہے، جو مرد کے برابر روحانی اور انسانی حقوق رکھتی ہے۔
اسلام عورت کو ایک ایسا متوازن اور باوقار مقام فراہم کرتا ہے جو اس کی روحانیت، شخصیت اور معاشرتی کردار کا احترام کرتا ہے۔ یہ تصورات کہ اسلام عورت کے حقوق کو دباتا ہے، اکثر غلط فہمیوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ آئیے قرآن و سنت کی روشنی میں عورت کے حقیقی مقام کا جائزہ لیں۔
روحانی مساوات
اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مرد اور عورت روحانی طور پر برابر ہیں۔ دونوں کی تخلیق ایک ہی نفس سے ہوئی ہے اور دونوں اپنے اعمال کے لیے یکساں طور پر جوابدہ ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> ”اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں۔“ (النساء: 1)
نیکی اور پرہیزگاری ہی فضیلت کا واحد معیار ہے۔ جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اسے اللہ کی طرف سے پورا اجر ملے گا۔ قرآن واضح کرتا ہے:
> ”بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مرد اور مومن عورتیں... (آخر تک) ... اللہ نے ان سب کے لیے بخشش اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔“ (الاحزاب: 35)
سماجی حقوق اور عزت
اسلام نے عورت کو معاشرے میں ایک قابلِ احترام مقام دیا ہے۔ بطور ماں، اس کا درجہ سب سے بلند ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت تمہاری ماؤں کے قدموں تلے ہے۔“ بطور بیٹی، وہ خاندان کے لیے رحمت ہے۔ بطور بیوی، وہ اپنے شوہر کے لیے سکون اور محبت کا ذریعہ ہے۔
اسلام نے عورت کو تعلیم حاصل کرنے کا مکمل حق دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔“ اسی طرح، عورت کو اپنی پسند سے شادی کرنے کا حق حاصل ہے اور اس پر کوئی زبردستی نہیں کی جا سکتی۔ قرآن شوہروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں:
> ”اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔“ (النساء: 19)
معاشی حقوق اور خود مختاری
اسلام نے چودہ سو سال پہلے عورت کو وہ معاشی حقوق عطا کیے جو بہت سی مغربی تہذیبوں نے صدیوں بعد تسلیم کیے۔ ایک مسلمان عورت کو جائیداد رکھنے، خریدنے، بیچنے اور وراثت میں حصہ پانے کا مکمل حق حاصل ہے۔
> ”مردوں کے لیے اس میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابت داروں نے چھوڑا، اور عورتوں کے لیے بھی اس میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابت داروں نے چھوڑا۔“ (النساء: 7)
عورت کی اپنی کمائی اور جائیداد صرف اسی کی ملکیت ہے، اور اس کا شوہر اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس، شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کے تمام مالی اخراجات پورے کرے۔ یہ ذمہ داری عورت پر نہیں ڈالی گئی، جس سے اسے معاشی تحفظ ملتا ہے۔
تاریخ کی عظیم مسلم خواتین
اسلامی تاریخ ایسی عظیم خواتین کی مثالوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے معاشرے کے ہر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
- حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ، جو مکہ کی ایک کامیاب اور معزز تاجرہ تھیں۔
- حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا): آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ، جو اپنے وقت کی سب سے بڑی عالمہ، فقیہہ اور استاد تھیں۔ ہزاروں احادیث ان کے ذریعے امت تک پہنچیں۔
- فاطمہ الفہری: ایک مسلم خاتون جنہوں نے 859 عیسوی میں مراکش کے شہر فاس میں دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی ”جامعۃ القرویین“ کی بنیاد رکھی۔
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ اسلام نے عورت کو ہمیشہ علم، عمل اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اسلام عورت کو قید نہیں کرتا، بلکہ اسے حیا اور وقار کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
