اللہ کون ہے؟

کائنات کی ہر شے ایک سوال پیدا کرتی ہے: اسے کس نے بنایا؟ اسلام اس سوال کا ایک واضح اور محبت بھرا جواب دیتا ہے۔ یہ جواب 'اللہ' کے نام میں پوشیدہ ہے، جو ایک اور واحد خدا کا ذاتی نام ہے۔

اللہ - ایک اور واحد خدا

اسلام کا سب سے بنیادی اور اہم عقیدہ 'توحید' ہے، یعنی یہ ماننا کہ اللہ ایک ہے۔ وہ اپنی ذات، صفات اور حقوق میں یکتا اور بے مثال ہے۔ اس کا کوئی شریک، کوئی اولاد اور نہ ہی کوئی والدین ہیں۔ قرآن مجید کی ایک مختصر سورت، سورۃ الاخلاص، اس عقیدے کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے:

> "کہہ دو کہ وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور اس کے برابر کا کوئی نہیں ہے۔" (قرآن 112:1-4)

'اللہ' کا لفظ کسی خاص مذہب کے خدا کے لیے مخصوص نہیں، بلکہ یہ عربی زبان میں 'The One God' یعنی 'ایک اور واحد خدا' کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عربی بولنے والے عیسائی اور یہودی بھی اسی لفظ کو استعمال کرتے ہیں۔ اسلام سکھاتا ہے کہ اللہ ہی وہ خدا ہے جس کی عبادت حضرت ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سمیت تمام انبیاء نے کی۔

کائنات کا خالق اور پالنے والا

اللہ اس پوری کائنات کا خالق (پیدا کرنے والا) اور رب (پالنے والا) ہے۔ اس نے آسمانوں، زمین، ستاروں، پہاڑوں، انسانوں، جانوروں اور ہر اس شے کو بنایا ہے جسے ہم جانتے ہیں اور جسے ہم نہیں جانتے۔ اس نے ہر چیز کو ایک خاص مقصد اور بہترین اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

اللہ صرف کائنات کو بنا کر چھوڑ نہیں دیتا، بلکہ وہ ہر لمحہ اسے چلا رہا ہے اور قائم رکھے ہوئے ہے۔ سورج کا طلوع ہونا، بارش کا برسنا، دل کا دھڑکنا، اور ایک بیج سے پودے کا اگنا، یہ سب اسی کے حکم سے ہے۔ قرآن کریم کی سب سے عظیم آیت، آیت الکرسی، اس کی قدرت اور علم کا احاطہ کرتی ہے:

> "اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ اور سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اسی کا ہے۔" (قرآن 2:255)

اللہ کی صفات: رحمٰن اور رحیم

اللہ نے قرآن میں اپنے بہت سے نام اور صفات بیان کیے ہیں تاکہ ہم اسے بہتر طور پر جان سکیں۔ ان میں سب سے نمایاں 'الرحمٰن' (سب پر مہربان) اور 'الرحیم' (بہت رحم کرنے والا) ہیں۔ یہ دو نام قرآن کی تقریباً ہر سورت کے آغاز میں آتے ہیں، جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے۔

اس کی رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ وہ 'الغفور' (بہت بخشنے والا) ہے، جو سچے دل سے توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ وہ 'الودود' (محبت کرنے والا) ہے، جو اپنے نیک بندوں سے محبت کرتا ہے۔ اس کی شفقت ایک ماں کی محبت سے ستر گنا زیادہ بیان کی گئی ہے۔ اللہ کی رحمت کا تصور مسلمانوں کو امید دلاتا ہے اور انہیں مایوسی سے بچاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:

> "اور میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔" (قرآن 7:156)

اللہ سے تعلق کیسے قائم کریں؟

اسلام میں اللہ سے تعلق قائم کرنے کے لیے کسی پادری یا پیشوا کی ضرورت نہیں۔ ہر انسان براہِ راست اللہ سے بات کر سکتا ہے اور اس سے مانگ سکتا ہے۔ یہ تعلق کئی طریقوں سے مضبوط ہوتا ہے:

1. دعا (Supplication): دعا اللہ سے گفتگو کا نام ہے۔ آپ کسی بھی وقت، کسی بھی زبان میں اپنے دل کی بات، اپنی پریشانیاں، اور اپنی خواہشات اس کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ وہ 'السمیع' (سب کچھ سننے والا) اور 'المجیب' (دعا قبول کرنے والا) ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے: "اور تمہارے رب نے کہا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔" (قرآن 40:60)

2. عبادت (Worship): نماز، روزہ، زکوٰۃ جیسی عبادات اللہ کا شکر ادا کرنے اور اس کے حکم کی تعمیل کا عملی اظہار ہیں۔ یہ اعمال انسان کو روحانی سکون دیتے ہیں اور اسے اپنے خالق کے قریب کرتے ہیں۔

3. قرآن کا مطالعہ (Reading the Quran): قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اسے پڑھنے اور سمجھنے سے انسان کو زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی ملتی ہے اور وہ اپنے رب کی مرضی کو جان پاتا ہے۔

اللہ ہر انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ ہمارے خیالات اور دلوں کے رازوں کو جانتا ہے۔ اس سے تعلق قائم کرنا زندگی کو بامقصد اور پرسکون بنا دیتا ہے۔

FAQ

کیا 'اللہ' صرف مسلمانوں کا خدا ہے؟

نہیں، 'اللہ' عربی زبان میں 'ایک خدا' کے لیے لفظ ہے۔ یہ وہی خدا ہے جس کی عبادت حضرت ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور دیگر تمام انبیاء نے کی۔ عربی بولنے والے عیسائی اور یہودی بھی خدا کے لیے 'اللہ' کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

کیا ہم اللہ کو دیکھ سکتے ہیں؟

اس دنیاوی زندگی میں انسان اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ قرآن کے مطابق، حضرت موسیٰ نے اللہ کو دیکھنے کی درخواست کی لیکن وہ اس تجلی کو برداشت نہ کر سکے۔ تاہم، مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ جنت میں اہل ایمان کو اللہ کا دیدار نصیب ہوگا۔

اگر اللہ مہربان ہے تو دنیا میں تکلیف کیوں ہے؟

اسلام سکھاتا ہے کہ یہ دنیا ایک امتحان کی جگہ ہے۔ تکالیف اور مشکلات ہماری آزمائش، گناہوں کی معافی، اور اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہو سکتی ہیں۔ اللہ کسی پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور صبر کرنے والوں کو اجر عظیم کا وعدہ کرتا ہے۔

اسلام میں اللہ کا تصور دیگر مذاہب سے کیسے مختلف ہے؟

اسلام میں سب سے بنیادی عقیدہ 'توحید' یعنی اللہ کا ایک ہونا ہے۔ اللہ کی کوئی شکل، کوئی اولاد، کوئی شریک یا بیوی نہیں ہے۔ وہ ہر چیز سے بے نیاز اور اپنی ذات میں یکتا ہے۔ یہ تصور اسے بہت سے دوسرے مذاہب کے تصورات سے ممتاز کرتا ہے جہاں خداؤں کی کثرت یا خدا کے انسانی شکل میں آنے کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔

Read in another language